کربلا میں حضرت امام حسین کے ورود سے لیکرنویں محرم الحرام تک کے مختصر واقعاتکربلا میں ورود2 محرم الحرام 61 ھ بروزجمعرات کو امام حسین علیہ السلام وارد کربلا ہو گئے۔ واعظ کاشفی اور علامہ اربلی کا بیان ہے کہ جیسے ہی امام حسین (ع) نے زمین کربلا پر قدم رکھا زمین کر بلا زرد ہو گئی اور ایک ایسا غبار اٹھا جس سے آپ کے چہرئہ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ یہ دیکھ کر اصحاب ڈرگئے اور جنابِ اُم کلثوم رونے لگیں۔ امام حسین (ع) کا خط اہل کوفہ کے نامکربلا پہنچنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے اتمام حجت کیلئے اہل کوفہ کے نام قیس ابن مسھر کے ذریعہ سے ایک خط ارسال فرمایا۔ جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ تمھاری دعوت پر میں کربلا تک آگیا ہوں الخ۔ قیس خط لیے جارہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔ اور انھیں ابن زیاد کے سامنے کوفہ لے جاکر پیش کر دیا گیا۔ ابن زیاد نے خط مانگا۔ قیس نے بروایتے چاک کرکے پھینک دیا اوربروایتے اس خط کو کھا لیاابن زیاد نے انھیں بضرب تازیانہ شہید کر دیا۔ عبیداللہ ابن زیاد کا خط امام حسین (ع) کے نامعلامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسین (ع) کے کربلا پہنچنے کے بعد حرنے ابن زیاد کو آپ کی رسیدگی کربلا کی خبردی۔ ا س نے امام حسین (ع) کو فوراََ ایک خط ارسال کیا۔ جس میں لکھا کہ مجھے یزید نے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے اس کے لیے بیعت لے لوں ، یا آپ کو قتل کر دوں۔ امام حسین (ع) نے اس خط کا جواب نہ دیا۔ \"اَلقَاہُ مِن یَدِہ\" اور اسے زمین پر پھینک دیا۔ اس کے بعد آپ نے محمد بن حنفیہ کو اپنے کربلاپہنچنے کی ایک خط کے ذریعہ سے اطلاع دی اور تحریر فرمایا کہ میں نے زندگی سے ہاتھ دھولیا ہے اور عنقریب عروس موت سے ہم کنار ہو جاؤں گا۔ دوسری محرم سے نویں محرم تک کے مختصر واقعاتدوسری محرم ۶۱ ء ہجری تیسری محرم الحرام یوم جمعہتیسری محرم الحرام یوم جمعہ کو عمر ابن سعد ۵، ۶ اور بقول علامہ اربلی ۲۲ ہزار سوار و پیادے لے کر کربلا پہنچا اور اس نے امام حسین (ع) سے تبادلہ خیالات کی خواہش کی۔ حضرت نے ارادہ کوفہ کا سبب بیان فرمایا۔ اس نے ابن زیاد کوگفتگو کی تفصیل لکھ دی اور یہ بھی لکھا کہ امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ اگر اب اہل کوفہ مجھے نہیں چاہتے تو میں واپس جانے کوتیارہوں ۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کے جواب میں لکھا کہ اب جب کہ ہم نے حسین (ع) کو چنگل میں لے لیا ہے تو وہ چھٹکارا چاہتے ہیں۔ \"لات حین مناص\"۔ یہ ہرگز نہیں ہوگا۔ ان سے کہہ دو کہ یہ اپنے تمام اعزاواقرباسمیت بیعت بزید کریں یاقتل ہونے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ میں بیعت سے پہلے ان کی کسی بات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں اسی تیسری تاریخ کی شام کو حبیب ابن مظاہر قبیلہ ابنی اسد میں گئے ا ور ان میں سے جانباز امداد حسینی کے لیے تیار کئے وہ انھیں لارہے تھے کہ کسی نے ابن زیاد کو اطلاع کر دی۔ اس نے ۴۰۰ سوکالشکر بھیج کر اس کمک کو روکوا دیا۔ چوتھی محرم الحرام یوم شنبہ۔ ہفتہچوتھی محرم الحرام یوم شنبہ کوابن زیاد نے مسجد جامع میں ایک خطبہ دیا جس میں اس نے امام حسین (ع) کے خلاف لوگوں کو بھڑکایااور کہا کہ حکم یزید سے تمھارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں تم اس کے دشمن حسین (ع) سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ۔ اس کے کہنے سے بے شمار لوگ آمادئہ کر بلا ہو گئے اور سب سے پہلے شمر نے روانگی کی درخواست کی ۔ چنانچہ شمر کو چارہزار، ابن رکاب کو دوہزار، ابن نمیر کو چار ہزار ، ابن رھینہ کوتین ہزار، ابن خرشہ کو دو ہزار سواردے کر روانہ کر بلا کردیا گیا۔ پانچویں محرم الحرم یوم یک شنبہ۔ اتوارپانچویں محرم الحرام یوم یک شنبہ اتوار کو شیث ابن ربعی کو چار ہزار، عروہ ابن قیس کو چار ہزار سنان ابن انس کو دس ہزار، محمد ابن اشعث کو ایک ہزار ۔ عبداللہ ابن حصین کو ایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ چھٹی محرم الحرام بروز پیرچھٹی محرم الحرام بروز پیر کو خولی ابن یزید اصبحی کو دس ہزار کعب ابن الحروکوتین ہزار، حجاج ابن حرکوایک ہزار کا لشکر دے کر روانہ کر دیا گیا۔ ان کے علاوہ چھوٹے بڑے اور کئی لشکر ارسال کر نے کے بعد ابن زیاد نے عمر ابن سعد کو لکھا کہ اب تک تجھے اسی ہزار کا کوفی لشکر بھیج چکا ہوں، ان میں حجازی اور شامی شامل نہیں ہیں۔ تجھے چاہئے کہ بلاحیلہ حوالہ حسین کو قتل کر دے۔ اسی تاریخ کو خوبی ابن یزید نے ابن زیاد کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں عمر ابن سعد کے لیے لکھا کہ یہ امام حسین(ع) سے رات کو چھپ کر ملتا ہے۔ اور ان سے بات چیت کیاکرتا ہے۔ ابن زیاد نے اس خط کو پاتے ہی عمر سعدکے نام ایک خط لکھا کہ مجھے تیری تمام حرکتوں کی اطلاع ہے تو چھپ کر باتیں کرتا ہے۔ دیکھ میرا خط پاتے ہی امام حسین (ع) پر پانی بند کر دے اور انھیں جلد سے جلد موت کے گھاٹ اتار نے کی کوشش کر۔ ساتویں محرم الحرام بروز منگلساتویں محرم الحرام بروزمنگل عمر ابن حجاج کو پانچ سوسواروں سمیت نہرفرات پر اس لیے مقرر کر دیا گیا کہ امام حسین (ع) کے خیمہ تک پانی نہ پہنچنے پائے پھر مزید احتیاط کے لیے چار ہزار کا لشکر دے کر حجر کو ایک ہزار کا لشکر دے کر شیث ابن ربعی کو روانہ کیا گیا۔ اور پانی کی بندش کر دی گئی۔ پانی بند ہو جانے کے بعد عبداللہ ابن حصین نے نہایت کر یہہ لفظوں میں طعنہ زنی کی جس سے امام حسین (ع) کو سخت صدمہ پہنچا پھر ابن حوشب نے طعنہ زنی کی جس کا جواب حضرت عباس نے دیا۔ آپ نے غالباََ طعنہ زنی کے جواب میں خیمہ سے ۱۹قدم کے فاصلہ پر جانب قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔ اور یہ بتادیا کہ ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں ہے۔ لیکن ہم اس مقام پرمعجزہ دکھانے نہیں آئے بلکہ امتحان دینے آئے ہیں۔ آٹھویں محرم الحرام بروز بدھآٹھویں محرم الحرام بروزبدھ کی شب کو خیمہ آلِ محمد سے پانی بالکل غائب ہو گیا۔ اس پیاس کی شدت نے بچوں کو بے چین کر دیا ہے۔ امام حسین (ع) نے حالات کو دیکھ کر حضرت عباس کو پانی لانے کا حکم دیا آپ چند سواروں کو لے کر تشریف لے گئے اور بڑی مشکلوں سے پانی لائے۔ وَلِذَالِکَ سُمِیَ العَبَّاسُ السقَاء اسی سقائی کی وجہ سے عباس(ع) کو \"سقاء\" کہا جاتا ہے۔ رات گزرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو یزید ابن حصین صحرائی نے باجازت امام حسین (ع)، ابن سعد کو فہمائش کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں حسین (ع) کو پانی دے کر حکومت رے چھوڑدوں۔ امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ ابن حصین اور ابن سعد کی گفتگو کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے خیموں کے گرو خندق کھودنے کاحکم دیا۔ اس کے بعد حضرت عباس(ع) کو حکم دیا کہ کنواں کھود کر پانی برآمد کرو۔ آپ نے کنواں تو کھودا۔ لیکن پانی نہ نکلا۔ نویں محرم الحرام بروز جمعراتنویں محرم الحرام بروز جمعرات کی شب کو امام حسین اور عمر بن سعد میں آخری گفتگو ہوئی۔ آپ کے ہمراہ حضرت عباس اور علی اکبر بھی تھے۔ آپ نے گفتگو میں ہر قسم کی حجت تمام کر لی۔
+ نوشته شده در پنجشنبه بیست و نهم بهمن ۱۳۹۴ساعت 9:21  توسط
|
|